شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقّا کہ بنائے لاالہ است حسین
ہے شاہ بھی حسین، بادشاہ بھئ حسین
ہے دین بھئ حسین، دین کی پناہ بھی حسین
سر دے دیا یزید کئ بیعت نا کی قبول
حقا کہ بنائے لا الہ بھئ ہے حسین
Ruler is Hussain, Emperor is Hussain,
Faith is Hussain , guardian of faith is Hussain .
Offered his head and not the hand to Yazid.
Truly, the mirror of faith is Hussain
یہ کون ذی وقار ہے ، بلا کا شہسوار ہے
جو ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بلیقین حسینؑ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نوُرِعین ہے
جو ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
ابو الاثر حفیظ جالندھری
لباس ہے پھٹا ہوا
غبار میں اٹا ہوا
تمام جسم نازنین - چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہسوار ہے کہ
ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقین حسینؑ ہے
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نور عین ہے
یہ کون حق پرست ہے۔ مئے رضا سے مست ہے
کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے
ادھر ہزار گھات ہے
مگر عجیب بات ہے
کہ ایک سے ہزارپا کا حوصلہ شکست ہے
یہ بالیقین حسینؑ ہے
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نور عین ہے
شعر میں کیسے بیاں ہو داستانِ کربلا
لاکھ مضموں باندھ لیجیے تشنگی رہ جائے گی
انور مسعود
شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقّا کہ بنائے لاالہ است حسین
ہے شاہ بھی حسین، بادشاہ بھئ حسین
ہے دین بھئ حسین، دین کی پناہ بھی حسین
سر دے دیا یزید کئ بیعت نا کی قبول
حقا کہ بنائے لا الہ بھئ ہے حسین
Ruler is Hussain, Emperor is Hussain,
Faith is Hussain , guardian of faith is Hussain .
Offered his head and not the hand to Yazid.
Truly, the mirror of faith is Hussain
خواجہ معین الدین چستی
جب خیر و شر میں دقّتِ تفریق ہو گئ
بے ساختہ حُسین کی تخلیق ہو گئ
عبدالحمید عدم
یہ کون ذی وقار ہے ، بلا کا شہسوار ہے
جو ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بلیقین حسینؑ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نوُرِعین ہے
جو ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
ابو الاثر حفیظ جالندھری
لباس ہے پھٹا ہوا
غبار میں اٹا ہوا
تمام جسم نازنین - چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہسوار ہے کہ
ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقین حسینؑ ہے
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نور عین ہے
یہ کون حق پرست ہے۔ مئے رضا سے مست ہے
کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے
ادھر ہزار گھات ہے
مگر عجیب بات ہے
کہ ایک سے ہزارپا کا حوصلہ شکست ہے
یہ بالیقین حسینؑ ہے
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نور عین ہے
ابو الاثر حفیظ جالندھری
حسینؑ نزہتِ باغِ پیمبرِ عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
حسینؑ نازشِ فاقہ، وقارِ تشنہ لبی
حسینؑ مرکزِ ایثار و مخزنِ تسلیم
حسینؑ شمعِ حقیقت، چراغِ بزمِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
حسینؑ لختِ دلِ مرتضیٰؑ و جانِ بتولؑ
جہاں میں کس کو میسر ہے یہ علو نسبی
حسینؑ، سینۂ اکبرؑ سے کھینچ لی برچھی
حسینؑ سینہ میں اس وقت کیسے آہ دبی
ستم کا تیر بھی دیکھا گلوئے اصغرؑ میں
وہ مسکرانے کا انداز روحِ تشنہ لبی
جوان بھائی کے شانے کٹے ہوئے دیکھے
یہ صبر ابنِ ید اللہ، یہ رضا طلبی
یہی تو شان ہے سبطِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہونے کی
دعائے بخششِ امت، جوابِ بے ادبی
نہیں ہے کوئی ذریعہ صبا، حسینؑ تو ہیں
بڑا سبب ہے زمانہ میں اپنی بے سببی
صبا اکبر آبادی
گو رہِ عشق میں شان پہلے بھی کم تو نہ تھی آپ کی
کربلا میں مگر سرخرو تھے سوا، معتبر اور تھے
سطح صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھی
لفظ لیکن لہو سے جو لکھے گئے ریت پر اور تھے
جلیل عالی
یہ لوگ اصولِ حق کی خاطر
سر دیتے ہیں، جان بیچتے ہیں
میدان سے آ رہی ہے آواز
جیسے شبّیر بولتے ہیں
جیسے غنچے چٹک رہے ہیں
جیسے کہسار گونجتے ہیں
“ہم نے جنہیں سر بلندیاں دیں”
سر کاٹتے کیسے لگ رہے ہیں
ہیں یہ رگِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قطرے
جو ریت میں جذب ہو رہے ہیں
دیکھو اے ساکنانِ عالم
یوں کشتِ حیات سینچتے ہیں
احمد ندیم قاسمی
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؑ
چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسینؑ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
جوش ملیح آبادی
سکینہ نے کہاروکرکہ میرے کان دکھتے ہیں
اتار اے شمر میری بالیاں آہستہ آہستہ
جوچلنا ہے توچل ظفرؔ اب شاہ کے روضے پر
گذرجائے گی عمررواں آہستہ آہستہ
بہادر شاہ ظفرؔ
نہ سرپہ چادر زہرا نہ ساتھ بھائی کا
تیرے نصیب میں زینب عجب سفر آئے
حسینیت سے کرواخذ رسم حق گوئی
سواد جبر میں مشکل گھڑی آئے
نثار سید
اصغر جگر کوتھام کے روتی ہے فوج شام
تم تیر کھا کے آئے ہویاتیر مار کے
قمر جلالوی
کسی سے اب کوئی بیعت نہیں طلب کرتا
کہ اہل تخت کے ذہنوں میں ڈر حسین کاہے
گلزار بخاری
شبیر کے ہاتھوں پرتواصغر تھا وہ لیکن
نکلا سرمیداں علی اکبر کے برابر
محسنؔ کونہیں خوف تکبیرین لحد میں
کوآئے گا مولا تیرے نوکرکے برابر
محسن نقوی
اس کم سنی میں یوں صف اعدا سے انتقام
اصغر توابتدا میں ہوا انتہا پسند
ثابت ہوئی یہ بات دیار دمشق میں
زینب خدا کے دین کوتیری ردا پسند
محسن نقوی
دشت کرب وبلا کاحال نہ پوچھ
دورتک گرد یاس ملتی
ہےبھوک ملتی ہے پیاس ملتی ہے
لیکن اس دشت میں مسافر کو
ایک مینار نور ملتا ہے
جس سے درس شعور ملتا ہے
ڈاکٹر بیدل حیدری
جوکربلا میں شاہ شہیداں سے پھرگئے
کعبہ سے منحرف ہوئے قرآں سے پھرگئے
امیرمینائی
تونے صداقتوں کانہ سودا کیاحسینؑ
باطل کے دل میں رہ گئی حسرت خرید کی
اقبال ساجد
یہ فقط عظمت کردار کے ڈھب ہوتے ہیں
فیصلے جنگ کے تلوار سے کب ہوتے ہیں
جھوٹ تعداد میں کتنا ہی زیادہ ہوسلیمؔ
اھل حق ہوں توبہتر بھی غضب ہوتے ہیں
سلیم کوثر
اس قافلے نے دیکھ لیا کربلا کادن
اب رہ گیا ہے شام کابازار دیکھنا
عبیداللہ علیم
سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُس کو
تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو
نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش ہے؟
کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو
خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی؟
کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو
خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کا
اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟
فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علی
کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو
کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتی
اگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو
مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشی
ستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو
وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
شہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو
عدو کے سمعِ رضا میں جگہ نہ پاۓ وہ بات
کہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو
بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلند
بہ قدرِ فہم ہے اگر کیمیا کہیں اُس کو
نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ خاک
کہ ایک جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس کو
ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملے
اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو
ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حُسنِ صبر کی داد؟
مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو
زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیں
پس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو
وہ ریگِ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
کہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو
امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عناد
پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اُس کو
یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں
علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اُس کو
یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
بُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس کو
علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد حسین
کرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟
نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہے
رکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟
بھرا ہے غالبِ دل خستہ کے کلام میں درد
غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو
مرزا غالب
عبّاس سا دنیا میں کوئ شیر نہیں ہے
عبّاس کے نام میں بھی زیر نہیں ہے
حسرت جیپوری
subhan Allah gr8 work …. plz or bhi shair post kijiye
بہت بہت شکریا جعفری صاحب
غالب میں نؤش ہوں گر جنّت نہ جا سکوں
حسرت یہی ہے کہ بعدِ مرگ کچھ کام آ سکوں
ایندھن بنا دے مجھ کو جہنم کا اے خدا
ہر دشمنِ علیؑ کا کلیجہ جلا سکوں
—–
مرزا غالب